باغی[2]

قسم کلام: صفت نسبتی ( واحد )

معنی

١ - باغ سے منسوب؛ باغ سے اگا ہوا، جیسے : باغی شلعم یا باغی بیر، (عموماً) جنگلی یا خود رو کی ضد۔ "باغی بیر جو آج پانچ چھ آنے سیر آتے ہیں ہم نے سدا پیسے سیر کھائے۔"      ( ١٩٣٦ء، راشدالخیری، تربیت نسواں، ٣٤ )

اشتقاق

فارسی زبان میں اسم 'باغ' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ نسبت لگنے سے 'باغی' بنا۔ اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور اصلی حالت اور معنی میں ہی مستعمل ہے۔ ١٨٧٧ء میں "عجائب المخلوقات" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - باغ سے منسوب؛ باغ سے اگا ہوا، جیسے : باغی شلعم یا باغی بیر، (عموماً) جنگلی یا خود رو کی ضد۔ "باغی بیر جو آج پانچ چھ آنے سیر آتے ہیں ہم نے سدا پیسے سیر کھائے۔"      ( ١٩٣٦ء، راشدالخیری، تربیت نسواں، ٣٤ )

اصل لفظ: باغ